17 اپریل 2010 - 19:30

سعودی حکومت نے گذشتہ چند روز کے دوران شعائر حسینی کے احیاء اور معارف حسینی کی ترویج کے سلسلے میں سرگرم شیعہ طلباء کی گرفتاری کے حوالے سے وسیع عملی اقدامات سرانجام دیئے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مشہور سعودی قانوندان «طاہر البدیوی» نے کہا کہ نواسۂ رسول سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے احیاء کے سلسلے میں فعال طالبعلم «حسین الحربی» کی گرفتاری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
انھوں نے کہا: حسین الحربی ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے حال ہی میں گرفتار نوجوانوں کی رہائی کے سلسلے میں الاحساء کے گورنر بدر بن جلوی سے ملاقات کی تهی اور اسی ملاقات میں بدر بن جلوی نے دھمکی دی تھی کہ وہ الاحساء کی جیلیں پیروان تشیع سے بھر دے گا۔
البدیوی نے کہا: سعودی سیکورٹی فورسز نے اب تک 22 شیعہ کارکنوں کو عاشورائی سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیا ہے جبکہ مقامی یونیورسٹی کے 16 طلبہ کا تعاقب کیا جارہا ہے اور یونیورسٹی سے بھاگ کر روپوش ہوچکے ہیں۔

بدر بن جلوی نے کہا:

الاحساء کی جیلیں اہل تشیع سے بھر دوں گا